Friday, June 7, 2013

خوشاب بد ترین لوڈ شیڈنگ کا نشانہ 20 گھنٹے سے زیادہ بجلی بند رہتی ہے۔


خوشاب کے غریب اور تعلیم سے محروم رکھے گئے عوام کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں
بُٹ عوامی نمائندے انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
خوشاب: نئی حکومت کی طرف سے دن کے اوقات میں ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ اور رات کے اوقات میں تین گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ بجلی کی بندش کے اعلان کے با وجود اہلِ خوشاب پر تاریخ کی بد ترین لوڈ شیڈنگ مسلط کر کے علاقہ کے کو شدید ترین ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خوشاب میں کئی کئی گھنٹے کی بندش کے بعد ایک یا آدھے گھنٹے کے لیے بجلی مہیا کی جاتی ہے یوں بیس سے بائیس گھنٹے کے لیے علاقہ کی بجلی بند رکھی جا رہی ہے۔ جس سے غریب عوام میں  شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ خوشاب کے عوام کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں عوامی نمائندے بُٹ اور شہری زیادہ تر غریب اور تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔

Monday, May 13, 2013

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی نتائج پی پی 40 خوشاب 2

پی پی 40 خوشاب 2 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے کرم الٰہی بندیال کامیاب
ادارہ وائس آف خوشاب کی طرف سے کرم الٰہی بندیال کو مبارک باد
http://ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=PA&constituencyid=PP-40

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تفصیلی نتائج پی پی 39 خوشاب 1

پی پی 39 خوشاب 1 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ملک جاوید اقبال اعوان کامیاب
ادارہ وائس آپ خوشاب کی جانب سے ملک جاوید اعوان کو مبارک باد
http://ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=PA&constituencyid=PP-39

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تفصیلی نتائج این اے 70 خوشاب 2



این اے 70 خوشاب 2 سے ملک شاکر بشیر اعوان کامیاب
ادارہ وائس خوشاب کی طرف سے ملک شاکر بشیر اعوان کو مبارک باد

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تفصیلی نتائج این اے 69 خوشاب 1



این اے 69 خوشاب 1 پاکستان مسلم لیگ ن کی سمیرا ملک کامیاب
ادارہ وائس آف خوشاب کی جانب سے محترمہ سمیرا ملک کو مبارک باد
http://ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=NA&constituencyid=NA-69



Sunday, May 5, 2013

خوشاب: مسلم لیگ ن کے چھ امیدوار بڑی مشکلات سے دوچار



خوشاب: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آمد پر مسلم لیگ ن کی مقامی انتظامیہ کی طرف سے منعقد کیے گئے جلسے کی ناکامی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی آمد پر منعقدہ جلسے کی کامیابی کے بعد مقامی سیاسی صورت حال مزید واضح ہو گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آج ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکا کی تعداد پی ایم ایل این کے جلسے کے شرکا سے کم و بیش تین گنا زیادہ تھی۔ مسلم لیگ ن کے جلسے کی ناکامی کی ذمہ داری مقامی ضلعی تنظیم اور صوبائی و مرکزی تنظیموں پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے علاقہ میں مسلم لیگ ن کا امیج بہتر کرنے کی کوئی سعی نہیں کی ہے اور نہ ہی مقامی طور پر مسلم لیگ ن کو منظم کیا گیا ہے کہ جو نئی قیادت مہیا کر سکے۔ چنانچہ ضلع کی دو قومی اور چار صوبائی نشستوں پر اس دفعہ انہی لوگوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے اپلائی کیا جو گذشتہ دس دس سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن  کی ضلعی تنظیم سے تو پیپلز پارٹی کی تنظیم بہتر رہی جس کے پاس ہر نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار موجود تھے۔ اسی طرح پاکستان تحریک انٖصاف کی ضلعی تنظیم بھی گذشتہ چند سالوں میں مسلم لیگ ن کی ضلعی تنظیم سے زیادہ فعال نظر آئی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی ضلعی تنظیموں میں سے تحریک انصاف کی ضلعی تنظیم زیادہ متحرک رہی تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔ چنانچہ ان کے پاس ہر حلقہ انتخاب سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تین تین امیدوار فہرست میں تھے۔ جبکہ مسلم لیگ ن جیسی جماعت کہ جو آئندہ پنج سالہ واضح برتری کے ساتھ حکومت بنانے والی سیاسی جماعت قرار دی جا رہی ہے، کی  طرف سے چھ میں سے پانچ نشستوں پر تو سوائے ان لوگوں کے جو مشرف دور سے چلے آ رہے ہیں کسی اور نے ٹکٹ کے لیے درخواست ہی نہیں دی۔  صرف ایک پی پی اکتالیس ایسی نشست تھی جس پر ٹکٹ کے لیے ملک آصف بھا کے مقابلے میں تصور علی خان اور چوہدری عبدالمنان نے بھی درخواستیں دی تھیں۔ یہ درخواستیں بھی ضلعی تنظیم کی فعالیت کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے دی گئی تھیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے انہی لوگوں کو ٹکٹیں جاری کی گئیں جو گذشتہ دس دس سال سے اقتدار میں چلے آ رہے تھے اور جن کی پاکستان مسلم لیگ ن میں خدمات کی کوئی تاریخ بھی نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست میں آئے ہی پرویز مشرف کے دور میں ہیں۔ اگر میاں شہباز شریف کے جلسے میں لوگوں نے شرکت نہیں کی تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ضلع خوشاب میں مسلم لیگ ن اب مقبول نہیں رہی۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے علاقہ میں جن لوگوں کو قومی و صوبائی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ جاری کیے ہیں عوام ان سے تنگ آ چکے ہیں۔ محترمہ سمیرا ملک کی بابت شاید یہ بات درست نہ ہو مگر مجموعی طور پر ان حضرات سے نہ تو عوام کو کوئی خاص ریلیف ملا ہے اور نہ ہی مسلم لیگ ن کا امیج بلند ہوا ہے۔ یہاں کے ضلعی عہدیداروں نے مسلم لیگ ن اور عوام کے مابین فاصلے کم کرنے کی جگہ ممبرانِ اسمبلی کے اہلکار بن کر وقت گزارنے کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ تنظیم کمزور رہی اور مسلم لیگ ن کو ٹکٹوں کے اجرا کے سلسلہ میں بلیک میل ہونا پڑا۔ مسلم لیگ ن، پیپز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام،  ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، پاکستان فلاح پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی امیدواروں کے علاوہ پرانے بزرگ مسلم لیگیوں پر مشتمل عوامی گروپ نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہوئے ہیں۔ جو آزاد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سردار شجاع محمد خان، حاجی شریف خان اور ملک خدا بخش بالترتیب این اے ستر، پی پی اکتالیس اور پی پی بیالیس پر الکیشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں حاجی شریف خان سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ تاہم عوامی گروپ کے متعلق یہ تاثر کہ یہ جاگیرداروں کا گروپ ہے اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کی کوئی خاص کوشش بھی عوامی گروپ کی طرف سے نہیں کی گئی۔ جس طرح بگھیوں پر گھوڑوں کے جلو میں شاہانہ طمطراق سے بلوچ اور ٹوانے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس سے عوام میں رغبت اور قرب کی بجائے محرومی اور غیریت کا احساس جنم لیتا ہے ساتھ ہی اس چیز کو ملک آصف بھا اپنی مہم میں بڑے زور شور سے بیان کر رہے ہیں۔ دیکھیں عوامی گیارہ مئی کو کس کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ اس انتخاب کو مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے لیے کوئی آسان الیکشن نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن کے چھ امیدوار بڑی مشکلات سے دوچار ہیں۔

Thursday, May 2, 2013

بابا طاہر شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا آٹھواں عرس چار اور پانچ مئی کو منایا جائے گا


خوشاب: سیاحِ حرمین شریفین بابا سید طاہر حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا آٹھواں عرس مبارک مورخہ چار اور پانچ مئی بروز ہفتہ و اتوار جوہرآباد میں ان کے مزارِ اقدس پر منایا جائے گا۔ بابا جی طاہر حسین شاہ صاحب حضرت بابا بلہے شاہ قصوری کی اولادِ امجاد میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی رشد و ہدایت، فقر و استغنا، ذکرِ الٰہی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کے فروغ کے لیے وقف کی ہوئی تھی۔ بابا جی نے زندگی کا ایک معتد بہ حصہ خوشاب میں گزارا اور یہیں ان کا مزارِ مقدس ہے۔ اپنی حیاتِ ظاہری میں آپ کی خانقاہ میں محافلِ ذکر و میلاد کا اکثر انتظام کیا جاتا ہر وقت لنگر شریف جاری رہتا۔ آپ خواص و عوام میں ہر عقیدت مند تواضع خود فرماتے۔ آپ کم و بیش ہر سال حج و عمرہ پر تشریف لے جایا کرتے۔ اس کثرت سے حرمین شریفین کی حاضری کی وجہ سے آپ کو لوگ سیاحِ حرمین کے لقب سے یاد کرتے۔ آپ کے فیض یافتگان ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ہر سال آپ کے عرس مبارک کے موقع پر ارادت مندوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔ 

Thursday, April 25, 2013

خوشاب: ضلعی دفتر الیکشن کمیشن متحرک سیاسی ورکروں کی دوڑیں۔

خوشاب: قانون پر عمل کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ضلعی دفتر کے اقدامات
خوشاب: ضلعی دفتر الیکشن کمیشن قانون کے دائرے میں شفاف انتخابات کرانے کے لیے متحرک ہو گیا۔ امیدواروں اور ان کے حامیوں کی طرف سے لگائے گئے اشتہاری مواد کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ سائز کے خلاف تیار  کیے گئے بینرز کی تصاویر لی گئیں۔ سرکاری عمارات اور تنصیبات سے امیدواروں کا اشتہاری مواد ہٹا دیا گیا۔  امیدواروں کو تنبیہ کی گئی کہ وہ الیکشن کمیشن کے بنائے گئے ضابطے کے مطابق اپنی انتخابی مہم چلائیں۔

تصاویر میں ٹی ایم اے خوشاب کا عملہ سرگودھا روڈ پر سرکاری کھمبوں پر لگائے گئے انتخابی امیدواروں کے بینرز اتار رہا ہے۔
کارکنان اپنے حمایت یافتگان کے بینرز اکٹھے کر رہے ہیں۔





Wednesday, April 17, 2013

حاجی شریف خان بلوچوں کے نہیں ٹوانوں کے نئمائندہ ہیں۔ ریحان سرور خان ایڈووکیٹ

خوشاب: خوشاب بار ایسو ایشن کی انسانی حقوق کمیٹی کے رکن ریحان سرور خان بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ حاجی شریف خان بلوچوں کے نہیں ٹوانوں کے نمائندہ ہیں نیز انہیں مفاد پرستوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے ان لوگوں نے الیکشن سے قبل ہی اپنے بلوچ کش عزائم کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی طرح خوشاب میں بھی انشااللہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ہی کامیاب ہوں گے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدواروں  ملک شاکر بشیر اعوان اور ملک آصف بھا کے اعزاز میں دیے گئے ایک استقبالیہ کے دوران کیا۔ استقبالیہ میں انسپکٹر غلام سرور خان بلوچ، محمد اقبال خان، محمد ممتاز خان، حیدر خان کوہانی، سابق کونسلر ضمیر خان سمیت بلوچ، مدھوال، اعوان اور شیخ برادری کی کثیر تعداد کے علاوہ اہلیانِ محلہ رحمت پورہ نے بھر پور شرکت کی۔  

Monday, April 8, 2013

خوشاب: پی پی اکتالیس پر اصل مقابلہ آزاد امیدواروں حاجی شریف بلوچ اور عمر علی خان کے درمیان ہوگا

خوشاب: پی پی اکتالیس کی نشست پر سابق چیئر مین بلدیہ حاجی شریف خان بلوچ کی عوامی مقبولیت میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سابق ایم پی اے ملک آصف بھا کی مقبولیت کا گراف بہت حد تک گر چکا ہے اور ان کے قریبی ساتھی اور حمایتی بھی اب ان کی حمایت سے کترا رہے ہیں۔ اس بنا پر قیاس کیا جاتا ہے سابق ایم پی اے تصور علی خان کے بیٹے عمر علی خان آئندہ آنے والے  الیکشن میں حاجی شریف خان کے قریب ترین حریف ہوں گے۔ سردار سجاد خان بلوچ، حاجی طارق خان بلوچ، مہر محمد انور ایڈووکیٹ کے مابین تیسری پوزیشن کے لیے مقابلہ ہوگا۔ سابق ایم پی اے اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر ملک آصف بھا کی عدم مقبولیت کی وجہ ان کی ایم پی اے کے طور پر سابقہ دس سال کی ناقص کارکردگی بتائی جاتی ہے۔

Thursday, March 14, 2013

شہنشاہِ تعمیرات یا شہنشاہِ کھنڈرات ۔۔۔۔۔ ای کالم: ظہیر باقر بلوچ


جوہرآباد سے خوشاب آتے ہوئے سڑک کے کھڈوں سے بچ نکلنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ گذشتہ دنوں ضلع کچہری سے واپس آتے ہوئے سڑک کے ان کھڈوں سے واسطہ پڑا۔ سیٹلائیٹ ٹاؤن تک آتے آتے کھڈوں کی وجہ گاڑی کا تو جو حال ہوا سو ہوا مگر سواروں سانس تک پھول گئی۔۔۔۔۔ سر چکرا گیا۔۔۔۔۔ اور معدہ تلملا گیا۔۔۔۔۔۔ ہوش و حواس اڑ گئے اور مجھے اس ضلع کی بد قسمتی پر شدید افسوس ہوا۔ پورے پنجاب میں کہیں چلے جائیں ضلعی ہیڈ کوارٹرز یورپ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر ایک خوشاب واحد ضلع ہے کہ جہاں پہنچتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان قدیم زمانے کی کسی بستی میں آ نکلا ہے۔ علاقے میں معاشی اور تجارتی ترقی کی وسیع ترین امکانات ہونے کے باوجود نا اہل عوامی نمائندگان کبھی علاقہ کی مجموعی بہتری کی جانب توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ جڑواں شہروں خوشاب اور جوہرآباد کے شہریوں کو جس ذلت بھری زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کہ اچانک سڑک پر ایک بڑا گڑھا گاڑی کے سامنے آ گیا ڈرائیور نے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن جمپ لگ کر رہا اور جمپ جو لگا تو میرنگاہ جو سڑک پر جمی تھی آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھتا کیا ہوں کہ سامنے ایک درمیانے سائز کا فلیکس سڑک کے کنارے نصب ہے۔ جس پر لکھا ہے شہنشاہِ تعمیرات ملک آصف بھا۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہنسوں یا روؤں۔۔۔۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے سڑک کی اس جگہ پر ایک بڑا کھڈا پڑ گیا ہے جہاں ملک آصف بھا کے حامیوں نے شہنشاہِ تعمیرات کا فلیکس آویزاں کیا تھا۔ قدرت نے اپنے دستِ تدبیر سے شہنشاہ تعمیرات کو شہنشاہِ کھنڈرات بنا دیا ہے۔ ملک آصف بھا پرویز مشرف دور کی پیداوار ہیں۔ سن دو ہزار دو میں یہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے دو ہزار آٹھ میں آزاد لڑے اور کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ قبل ازیں وہ بھٹو کے دیوانے بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے گذشتہ دس سالہ  دور اقتدار میں انہوں نے نہ تو مسلم لیگ کا امیج بلند کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش کی ہے نہ ہی علاقہ کے وسیع تر ترقی اور معاشی استحکام کے کسی منصوبہ کے متعلق سوچا ہے۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کے دس قیمتی سال محض یہ ثابت کرنے میں صرف کر دیے ہیں کہ ان سے بڑا کوئی پھنے خان نہیں ہے۔ ایس پی ان کا ہے تھانے ان کے ہیں۔ سرکاری دفاتر ان کے ہیں۔ جسے جو کام کروانا ہے ان کے ذریعے کروائے۔ اور ان کے دوستوں نے وہ وہ کام کروائے کہ رہے نام اللہ کا۔ اگر یہ ان کا مقصد تھا تو اس میں وہ بجا طور پر کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دامنِ فراست میں چند گلیوں اور نالیوں کی تعمیر وہ بھی اس احتیاط سے کہ کسی مخالف کے گھر کے آگے سے تعمیر نہ ہونے پائے اور چند سکولوں کی گریڈیشن کے علاوہ اور کچھ نہیں اور ان کارناموں کو یوں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے ملک آصف بھا ایم پی اے نہ ہوتے تو ان انقلابی اقدامات کی جانب تو کسی کا ذہن ہی نہیں جانا تھا۔ اب ان صاحب نے اپنے دورِ اقتدار کو دس سے پندرہ سال تک بڑھانے کے لیے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے پارٹی کو درخواست روانہ کر دی ہے۔ ان کے مقابلے میں سابق ایم پی اے تصور علی خان نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ مسلم لیگ ن عوام سے بار بار اپیل کرتی ہے وہ لٹیروں کو دوبارہ منتخب نہ کریں۔ خوشاب کے عوام مسلم لیگ ن کی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کی ضلعی تنظیموں کے پاس امیدوار ہی نہیں ہیں تو ان کی اس اپیل کی تعمیل بھلا کیسے ممکن ہوگی اور وہ تبدیلی کس طرح آئے گی جس کے لانے کا وعدہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں کیا ہے۔

Wednesday, March 13, 2013

خوشاب مقامی سیاست کے اتار چرھاؤ.. بوڑھے بابے متحرک ہو گئے: تحریر ظہیر باقر بلوچ


احسان ٹوانہ کی الیکشن سے دستبرداری، حاجی شریف خان پر دباؤ

کیا عمر اسلم اعوان اور حاجی شریف خان تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے


ضلع خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی کونسل کے رکن احسان اللہ ٹوانہ کی جانب سے الیکشن سے دستبرداری کے اعلان کے بعد علاقے کی سیاسی صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ جس سے آئندہ آنے والے انتخابات میں سیاسی دھڑوں، بڑے ضلعی گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین جاری سیاسی کشمکش اب اپنی حتمی شکل میں ڈھلنا شروع ہو گئی ہے۔ احسان اللہ ٹوانہ کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے سے ستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی  سابق صوبائی وزیر ملک خدا بخش ٹوانہ نے سابق چئر مین بلدیہ خوشاب حاجی شریف خان بلوچ  سے ملاقات کی ضلع خوشاب کی سیاسی تاریخ میں یہ حاجی شریف خان اور ملک خدا بخش کی پہلی باضابطہ سیاسی ملاقات تھی۔ اس تاریخی ملاقات میں دونوں بڑے سیاسی رہنماؤں کے مابین اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ سردار شجاع محمد بلوچ، ملک خدا بخش ٹوانہ اور حاجی شریف خان بلوچ باہم متحد ہو کر پینل کی شکل میں این اے ۷۰، پی پی ۴۱ اور پی پی ۴۲ سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔  اس بات پر بھی اتفاق ہو گیا کہ حاجی شریف خان پی پی اکتالیس پر ایم پی اے ملک آصف بھا کا مقابلہ کریں گے۔ یہ طے ہونا باقی ہے سردار شجاع اور خدا بخش ٹوانہ میں سے کون این اے ستر پر الیکشن لڑے گا اور کون پی پی بیالیس پر ملک خدا بخش ٹوانہ کی طرف سے اس کا اختیار حاجی شریف خان کو دیا گیا ہے کہ وہ جسے جس حلقہ کے لیے نامزد کریں انہیں قبول ہوگا۔ بوڑھے اور پرانے سیاستدانوں پر مبنی یہ بلاشک و شبہ ایک مضبوط پینل سامنے آیا ہے جو تینوں سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیموں اور موجودہ ممبران اسمبلی کی نیندیں اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس ضمن میں بہت سارے سوالات نے بھی جنم لیا ہے جن کے جوابات حلقہ ہائے نمائندگی کے عوام براہ راست طلب نہ بھی کریں تو امیدوار حضرات کو اپنے طور پر دینا ہوں گے۔  اگر ملک احسان اللہ ٹوانہ کی طرح حاجی شریف خان بلوچ اور ملک عمر اسلم بھی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لینے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں تو تحریک انصاف ضلع کی تین نشستوں پر اچھے مضبوط اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں سے محروم ہو جائے گی۔ جو ضلع سیاست کے ساتھ ساتھ  صوبائی سطح پر بھی تحریک کے لیے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ خدا بخش ٹوانہ کی جانب سے حاجی شریف خان کے سامنے اتحاد کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کسی پارٹی کا ٹکٹ لیے بغیر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے۔ حاجی شریف خان اگرچہ ٹوانہ گروپ سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر ان کے لیے یہ ایک نئی صورت حال ہے۔ اب تک وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پورے شہر میں ان کے پینا فلیکس عمران خان کی تصویروں کے ہمراہ نصب ہیں۔ اب وہ یک لخت کس طرح تحریک انصاف کو چھوڑیں گے۔  اس موقع پر جب اپنے تیس سالہ سیاسی کیرئیر میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا ارادہ کیا ہے حاجی شریف خان کے لیے اتنی بڑی سیاسی قلابازی خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا بخش ٹوانہ اور حاجی شریف خان ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ دونوں ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ ہے ہیں اور باہمی اتحاد اس کا اولین تقاضا بن گیا ہے۔ مگر خدا بخش ٹوانہ نے اپنے پتے زیادہ چابکدستی سے کھیلتے ہوئے حاجی شریف  خان دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر وہ تحریک انصاف کو نہیں چوڑتے تو ٹوانہ کی حمایت مشکل ہو جاتی ہے اور اگر پارٹی کو چھوڑ کر ٹوانہ سے پینل بناتے ہیں تو تحریک انصاف کی حمایت اور سیاسی متانت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے وہ اس دوراہے میں سے کیا انتخاب کرتے دو رستوں میں کسی ایک کا انخاب یا دونوں کے درمیان ایک نیا رستہ۔