جوہرآباد سے خوشاب آتے ہوئے سڑک کے کھڈوں سے بچ نکلنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ گذشتہ دنوں ضلع کچہری سے واپس آتے ہوئے سڑک کے ان کھڈوں سے واسطہ پڑا۔ سیٹلائیٹ ٹاؤن تک آتے آتے کھڈوں کی وجہ گاڑی کا تو جو حال ہوا سو ہوا مگر سواروں سانس تک پھول گئی۔۔۔۔۔ سر چکرا گیا۔۔۔۔۔ اور معدہ تلملا گیا۔۔۔۔۔۔ ہوش و حواس اڑ گئے اور مجھے اس ضلع کی بد قسمتی پر شدید افسوس ہوا۔ پورے پنجاب میں کہیں چلے جائیں ضلعی ہیڈ کوارٹرز یورپ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر ایک خوشاب واحد ضلع ہے کہ جہاں پہنچتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان قدیم زمانے کی کسی بستی میں آ نکلا ہے۔ علاقے میں معاشی اور تجارتی ترقی کی وسیع ترین امکانات ہونے کے باوجود نا اہل عوامی نمائندگان کبھی علاقہ کی مجموعی بہتری کی جانب توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ جڑواں شہروں خوشاب اور جوہرآباد کے شہریوں کو جس ذلت بھری زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کہ اچانک سڑک پر ایک بڑا گڑھا گاڑی کے سامنے آ گیا ڈرائیور نے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن جمپ لگ کر رہا اور جمپ جو لگا تو میرنگاہ جو سڑک پر جمی تھی آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھتا کیا ہوں کہ سامنے ایک درمیانے سائز کا فلیکس سڑک کے کنارے نصب ہے۔ جس پر لکھا ہے شہنشاہِ تعمیرات ملک آصف بھا۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہنسوں یا روؤں۔۔۔۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے سڑک کی اس جگہ پر ایک بڑا کھڈا پڑ گیا ہے جہاں ملک آصف بھا کے حامیوں نے شہنشاہِ تعمیرات کا فلیکس آویزاں کیا تھا۔ قدرت نے اپنے دستِ تدبیر سے شہنشاہ تعمیرات کو شہنشاہِ کھنڈرات بنا دیا ہے۔ ملک آصف بھا پرویز مشرف دور کی پیداوار ہیں۔ سن دو ہزار دو میں یہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے دو ہزار آٹھ میں آزاد لڑے اور کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ قبل ازیں وہ بھٹو کے دیوانے بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے گذشتہ دس سالہ دور اقتدار میں انہوں نے نہ تو مسلم لیگ کا امیج بلند کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش کی ہے نہ ہی علاقہ کے وسیع تر ترقی اور معاشی استحکام کے کسی منصوبہ کے متعلق سوچا ہے۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کے دس قیمتی سال محض یہ ثابت کرنے میں صرف کر دیے ہیں کہ ان سے بڑا کوئی پھنے خان نہیں ہے۔ ایس پی ان کا ہے تھانے ان کے ہیں۔ سرکاری دفاتر ان کے ہیں۔ جسے جو کام کروانا ہے ان کے ذریعے کروائے۔ اور ان کے دوستوں نے وہ وہ کام کروائے کہ رہے نام اللہ کا۔ اگر یہ ان کا مقصد تھا تو اس میں وہ بجا طور پر کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دامنِ فراست میں چند گلیوں اور نالیوں کی تعمیر وہ بھی اس احتیاط سے کہ کسی مخالف کے گھر کے آگے سے تعمیر نہ ہونے پائے اور چند سکولوں کی گریڈیشن کے علاوہ اور کچھ نہیں اور ان کارناموں کو یوں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے ملک آصف بھا ایم پی اے نہ ہوتے تو ان انقلابی اقدامات کی جانب تو کسی کا ذہن ہی نہیں جانا تھا۔ اب ان صاحب نے اپنے دورِ اقتدار کو دس سے پندرہ سال تک بڑھانے کے لیے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے پارٹی کو درخواست روانہ کر دی ہے۔ ان کے مقابلے میں سابق ایم پی اے تصور علی خان نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ مسلم لیگ ن عوام سے بار بار اپیل کرتی ہے وہ لٹیروں کو دوبارہ منتخب نہ کریں۔ خوشاب کے عوام مسلم لیگ ن کی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کی ضلعی تنظیموں کے پاس امیدوار ہی نہیں ہیں تو ان کی اس اپیل کی تعمیل بھلا کیسے ممکن ہوگی اور وہ تبدیلی کس طرح آئے گی جس کے لانے کا وعدہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں کیا ہے۔
No comments:
Post a Comment