Thursday, March 14, 2013

شہنشاہِ تعمیرات یا شہنشاہِ کھنڈرات ۔۔۔۔۔ ای کالم: ظہیر باقر بلوچ


جوہرآباد سے خوشاب آتے ہوئے سڑک کے کھڈوں سے بچ نکلنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ گذشتہ دنوں ضلع کچہری سے واپس آتے ہوئے سڑک کے ان کھڈوں سے واسطہ پڑا۔ سیٹلائیٹ ٹاؤن تک آتے آتے کھڈوں کی وجہ گاڑی کا تو جو حال ہوا سو ہوا مگر سواروں سانس تک پھول گئی۔۔۔۔۔ سر چکرا گیا۔۔۔۔۔ اور معدہ تلملا گیا۔۔۔۔۔۔ ہوش و حواس اڑ گئے اور مجھے اس ضلع کی بد قسمتی پر شدید افسوس ہوا۔ پورے پنجاب میں کہیں چلے جائیں ضلعی ہیڈ کوارٹرز یورپ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر ایک خوشاب واحد ضلع ہے کہ جہاں پہنچتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان قدیم زمانے کی کسی بستی میں آ نکلا ہے۔ علاقے میں معاشی اور تجارتی ترقی کی وسیع ترین امکانات ہونے کے باوجود نا اہل عوامی نمائندگان کبھی علاقہ کی مجموعی بہتری کی جانب توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ جڑواں شہروں خوشاب اور جوہرآباد کے شہریوں کو جس ذلت بھری زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کہ اچانک سڑک پر ایک بڑا گڑھا گاڑی کے سامنے آ گیا ڈرائیور نے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن جمپ لگ کر رہا اور جمپ جو لگا تو میرنگاہ جو سڑک پر جمی تھی آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھتا کیا ہوں کہ سامنے ایک درمیانے سائز کا فلیکس سڑک کے کنارے نصب ہے۔ جس پر لکھا ہے شہنشاہِ تعمیرات ملک آصف بھا۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہنسوں یا روؤں۔۔۔۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے سڑک کی اس جگہ پر ایک بڑا کھڈا پڑ گیا ہے جہاں ملک آصف بھا کے حامیوں نے شہنشاہِ تعمیرات کا فلیکس آویزاں کیا تھا۔ قدرت نے اپنے دستِ تدبیر سے شہنشاہ تعمیرات کو شہنشاہِ کھنڈرات بنا دیا ہے۔ ملک آصف بھا پرویز مشرف دور کی پیداوار ہیں۔ سن دو ہزار دو میں یہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے دو ہزار آٹھ میں آزاد لڑے اور کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ قبل ازیں وہ بھٹو کے دیوانے بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے گذشتہ دس سالہ  دور اقتدار میں انہوں نے نہ تو مسلم لیگ کا امیج بلند کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش کی ہے نہ ہی علاقہ کے وسیع تر ترقی اور معاشی استحکام کے کسی منصوبہ کے متعلق سوچا ہے۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کے دس قیمتی سال محض یہ ثابت کرنے میں صرف کر دیے ہیں کہ ان سے بڑا کوئی پھنے خان نہیں ہے۔ ایس پی ان کا ہے تھانے ان کے ہیں۔ سرکاری دفاتر ان کے ہیں۔ جسے جو کام کروانا ہے ان کے ذریعے کروائے۔ اور ان کے دوستوں نے وہ وہ کام کروائے کہ رہے نام اللہ کا۔ اگر یہ ان کا مقصد تھا تو اس میں وہ بجا طور پر کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دامنِ فراست میں چند گلیوں اور نالیوں کی تعمیر وہ بھی اس احتیاط سے کہ کسی مخالف کے گھر کے آگے سے تعمیر نہ ہونے پائے اور چند سکولوں کی گریڈیشن کے علاوہ اور کچھ نہیں اور ان کارناموں کو یوں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے ملک آصف بھا ایم پی اے نہ ہوتے تو ان انقلابی اقدامات کی جانب تو کسی کا ذہن ہی نہیں جانا تھا۔ اب ان صاحب نے اپنے دورِ اقتدار کو دس سے پندرہ سال تک بڑھانے کے لیے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے پارٹی کو درخواست روانہ کر دی ہے۔ ان کے مقابلے میں سابق ایم پی اے تصور علی خان نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ مسلم لیگ ن عوام سے بار بار اپیل کرتی ہے وہ لٹیروں کو دوبارہ منتخب نہ کریں۔ خوشاب کے عوام مسلم لیگ ن کی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کی ضلعی تنظیموں کے پاس امیدوار ہی نہیں ہیں تو ان کی اس اپیل کی تعمیل بھلا کیسے ممکن ہوگی اور وہ تبدیلی کس طرح آئے گی جس کے لانے کا وعدہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں کیا ہے۔

Wednesday, March 13, 2013

خوشاب مقامی سیاست کے اتار چرھاؤ.. بوڑھے بابے متحرک ہو گئے: تحریر ظہیر باقر بلوچ


احسان ٹوانہ کی الیکشن سے دستبرداری، حاجی شریف خان پر دباؤ

کیا عمر اسلم اعوان اور حاجی شریف خان تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے


ضلع خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی کونسل کے رکن احسان اللہ ٹوانہ کی جانب سے الیکشن سے دستبرداری کے اعلان کے بعد علاقے کی سیاسی صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ جس سے آئندہ آنے والے انتخابات میں سیاسی دھڑوں، بڑے ضلعی گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین جاری سیاسی کشمکش اب اپنی حتمی شکل میں ڈھلنا شروع ہو گئی ہے۔ احسان اللہ ٹوانہ کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے سے ستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی  سابق صوبائی وزیر ملک خدا بخش ٹوانہ نے سابق چئر مین بلدیہ خوشاب حاجی شریف خان بلوچ  سے ملاقات کی ضلع خوشاب کی سیاسی تاریخ میں یہ حاجی شریف خان اور ملک خدا بخش کی پہلی باضابطہ سیاسی ملاقات تھی۔ اس تاریخی ملاقات میں دونوں بڑے سیاسی رہنماؤں کے مابین اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ سردار شجاع محمد بلوچ، ملک خدا بخش ٹوانہ اور حاجی شریف خان بلوچ باہم متحد ہو کر پینل کی شکل میں این اے ۷۰، پی پی ۴۱ اور پی پی ۴۲ سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔  اس بات پر بھی اتفاق ہو گیا کہ حاجی شریف خان پی پی اکتالیس پر ایم پی اے ملک آصف بھا کا مقابلہ کریں گے۔ یہ طے ہونا باقی ہے سردار شجاع اور خدا بخش ٹوانہ میں سے کون این اے ستر پر الیکشن لڑے گا اور کون پی پی بیالیس پر ملک خدا بخش ٹوانہ کی طرف سے اس کا اختیار حاجی شریف خان کو دیا گیا ہے کہ وہ جسے جس حلقہ کے لیے نامزد کریں انہیں قبول ہوگا۔ بوڑھے اور پرانے سیاستدانوں پر مبنی یہ بلاشک و شبہ ایک مضبوط پینل سامنے آیا ہے جو تینوں سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیموں اور موجودہ ممبران اسمبلی کی نیندیں اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس ضمن میں بہت سارے سوالات نے بھی جنم لیا ہے جن کے جوابات حلقہ ہائے نمائندگی کے عوام براہ راست طلب نہ بھی کریں تو امیدوار حضرات کو اپنے طور پر دینا ہوں گے۔  اگر ملک احسان اللہ ٹوانہ کی طرح حاجی شریف خان بلوچ اور ملک عمر اسلم بھی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لینے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں تو تحریک انصاف ضلع کی تین نشستوں پر اچھے مضبوط اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں سے محروم ہو جائے گی۔ جو ضلع سیاست کے ساتھ ساتھ  صوبائی سطح پر بھی تحریک کے لیے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ خدا بخش ٹوانہ کی جانب سے حاجی شریف خان کے سامنے اتحاد کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کسی پارٹی کا ٹکٹ لیے بغیر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے۔ حاجی شریف خان اگرچہ ٹوانہ گروپ سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر ان کے لیے یہ ایک نئی صورت حال ہے۔ اب تک وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پورے شہر میں ان کے پینا فلیکس عمران خان کی تصویروں کے ہمراہ نصب ہیں۔ اب وہ یک لخت کس طرح تحریک انصاف کو چھوڑیں گے۔  اس موقع پر جب اپنے تیس سالہ سیاسی کیرئیر میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا ارادہ کیا ہے حاجی شریف خان کے لیے اتنی بڑی سیاسی قلابازی خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا بخش ٹوانہ اور حاجی شریف خان ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ دونوں ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ ہے ہیں اور باہمی اتحاد اس کا اولین تقاضا بن گیا ہے۔ مگر خدا بخش ٹوانہ نے اپنے پتے زیادہ چابکدستی سے کھیلتے ہوئے حاجی شریف  خان دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر وہ تحریک انصاف کو نہیں چوڑتے تو ٹوانہ کی حمایت مشکل ہو جاتی ہے اور اگر پارٹی کو چھوڑ کر ٹوانہ سے پینل بناتے ہیں تو تحریک انصاف کی حمایت اور سیاسی متانت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ دیکھیے وہ اس دوراہے میں سے کیا انتخاب کرتے دو رستوں میں کسی ایک کا انخاب یا دونوں کے درمیان ایک نیا رستہ۔