خوشاب: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آمد پر مسلم لیگ ن کی مقامی انتظامیہ
کی طرف سے منعقد کیے گئے جلسے کی ناکامی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر
مین عمران خان کی آمد پر منعقدہ جلسے کی کامیابی کے بعد مقامی سیاسی صورت حال مزید
واضح ہو گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آج ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکا کی
تعداد پی ایم ایل این کے جلسے کے شرکا سے کم و بیش تین گنا زیادہ تھی۔ مسلم لیگ ن
کے جلسے کی ناکامی کی ذمہ داری مقامی ضلعی تنظیم اور صوبائی و مرکزی تنظیموں پر
عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے علاقہ میں مسلم لیگ ن کا امیج بہتر کرنے کی کوئی سعی
نہیں کی ہے اور نہ ہی مقامی طور پر مسلم لیگ ن کو منظم کیا گیا ہے کہ جو نئی قیادت
مہیا کر سکے۔ چنانچہ ضلع کی دو قومی اور چار صوبائی نشستوں پر اس دفعہ انہی لوگوں
نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے اپلائی کیا جو گذشتہ دس دس سال سے اقتدار کے مزے لوٹ
رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی ضلعی تنظیم سے تو پیپلز پارٹی کی تنظیم بہتر
رہی جس کے پاس ہر نشست پر الیکشن لڑنے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار موجود تھے۔ اسی
طرح پاکستان تحریک انٖصاف کی ضلعی تنظیم بھی گذشتہ چند سالوں میں مسلم لیگ ن کی
ضلعی تنظیم سے زیادہ فعال نظر آئی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تمام سیاسی جماعتوں
کی ضلعی تنظیموں میں سے تحریک انصاف کی ضلعی تنظیم زیادہ متحرک رہی تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔ چنانچہ ان کے
پاس ہر حلقہ انتخاب سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تین تین امیدوار فہرست میں تھے۔
جبکہ مسلم لیگ ن جیسی جماعت کہ جو آئندہ پنج سالہ واضح برتری کے ساتھ حکومت بنانے
والی سیاسی جماعت قرار دی جا رہی ہے، کی طرف سے چھ میں سے پانچ نشستوں پر تو
سوائے ان لوگوں کے جو مشرف دور سے چلے آ رہے ہیں کسی اور نے ٹکٹ کے لیے درخواست ہی
نہیں دی۔ صرف ایک پی پی اکتالیس ایسی نشست تھی جس پر ٹکٹ کے لیے ملک آصف بھا
کے مقابلے میں تصور علی خان اور چوہدری عبدالمنان نے بھی درخواستیں دی تھیں۔ یہ
درخواستیں بھی ضلعی تنظیم کی فعالیت کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے دی گئی تھیں۔ لیکن مسلم لیگ ن
کی قیادت کی طرف سے انہی لوگوں کو ٹکٹیں جاری کی گئیں جو گذشتہ دس دس سال سے
اقتدار میں چلے آ رہے تھے اور جن کی پاکستان مسلم لیگ ن میں خدمات کی کوئی تاریخ
بھی نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست میں آئے ہی پرویز مشرف کے دور میں ہیں۔ اگر
میاں شہباز شریف کے جلسے میں لوگوں نے شرکت نہیں کی تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ضلع
خوشاب میں مسلم لیگ ن اب مقبول نہیں رہی۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے
علاقہ میں جن لوگوں کو قومی و صوبائی نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ جاری کیے
ہیں عوام ان سے تنگ آ چکے ہیں۔ محترمہ سمیرا ملک کی بابت شاید یہ بات درست نہ ہو
مگر مجموعی طور پر ان حضرات سے نہ تو عوام کو کوئی خاص ریلیف ملا ہے اور نہ ہی
مسلم لیگ ن کا امیج بلند ہوا ہے۔ یہاں کے ضلعی عہدیداروں نے مسلم لیگ ن اور عوام کے
مابین فاصلے کم کرنے کی جگہ ممبرانِ اسمبلی کے اہلکار بن کر وقت گزارنے کو ترجیح دی
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم کمزور رہی اور مسلم لیگ ن کو ٹکٹوں کے اجرا کے سلسلہ
میں بلیک میل ہونا پڑا۔ مسلم لیگ ن، پیپز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام،
ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، پاکستان فلاح پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی
امیدواروں کے علاوہ پرانے بزرگ مسلم لیگیوں پر مشتمل عوامی گروپ نے بھی اپنے
امیدوار کھڑے کیے ہوئے ہیں۔ جو آزاد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سردار شجاع محمد
خان، حاجی شریف خان اور ملک خدا بخش بالترتیب این اے ستر، پی پی اکتالیس اور پی پی
بیالیس پر الکیشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں حاجی شریف خان سب سے بہتر پوزیشن میں
ہیں۔ تاہم عوامی گروپ کے متعلق یہ تاثر کہ یہ جاگیرداروں کا گروپ ہے اپنی جگہ پر
موجود ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کی کوئی خاص کوشش بھی عوامی گروپ کی طرف سے
نہیں کی گئی۔ جس طرح بگھیوں پر گھوڑوں کے جلو میں شاہانہ طمطراق سے بلوچ اور ٹوانے
اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس سے عوام میں رغبت اور قرب کی بجائے محرومی اور غیریت
کا احساس جنم لیتا ہے ساتھ ہی اس چیز کو ملک آصف بھا اپنی مہم میں بڑے زور شور سے
بیان کر رہے ہیں۔ دیکھیں عوامی گیارہ مئی کو کس کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ اس انتخاب کو مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے لیے کوئی آسان الیکشن نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن کے چھ امیدوار بڑی مشکلات سے دوچار ہیں۔
hi.. im also from khushab.. i have seen 1st man in khushab who have blog..
ReplyDeletei will be thankful to u if u join me at www.facebook.com/shahwal.mohsin
and 1 thing im also with PML-N
Thanks for the feedback Shahwal. Nice to know about you.
ReplyDelete