خوشاب: جنازہ گاہ دربار بادشاہان صاحبان رحمۃ اللہ علیہما کی تعمیر نو ایم پی اے ملک آصف بھا کی جانب سے ناکافی فنڈز جاری کیے جانے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ کئی سال سے تعمیرِ نو کی منتظر خستہ حال جنازہ گاہ دربار بادشاہاں کا صحن بلند کرنا اور برآمدے اور چار دیواری کو گرا کر نیا تعمیر کرنا گذشتہ کئی سالوں سے شہریوں کا مطالبہ رہا ہے لیکن ایم پی اے مذکور نے اپنے گذشتہ آٹھ سالہ دورِ اقتدار میں کبھی اس کی ضرورت محسوس نہ کی اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی فنڈز جاری کیے۔ اب جبکہ ان کے لیے آنے والے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا روز بروز مشکل ہو تا جا رہا ہے تو انہوں نے انگلی کٹا کے شہیدوں میں نام لکھوانے کے لیے مذکورہ جنازہ گاہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ جو جنازہ گاہ کی تعمیر نو کے لیے کسی بھی لحاظ سے ناکافی ہیں۔ ایم پی اے نے اس مقصد کے لیے مبلغ بییس لاکھ روپے کے فنڈز جاری کیے جبکہ تعمیر کرنے والے محکمہ کے انجیئرز کے مطابق صرف جنازہ گاہ کی چھت کی تعمیرِ نو کے لیے بائیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دلچسپ ترین حقیقت یہ ہے کہ اس جنازہ گاہ کی تعمیر نو کا کام متعلقہ محکمہ یعنی محکمہ تعمیرات سے کروانے کی بجائے ایک غیر متعلقہ محکمہ یعنی ہائی وے ڈیپارٹمنٹ سے کروایا جارہا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ ایم پی اے کی جانب مزید پندرہ لاکھ روپے اس ضمن میں جاری کیے جا رہے ہیں لیکن یہ پندرہ لاکھ روپے ایک اور محکمہ یعنی ٹی ایم اے کے ذریعے استعمال میں لانے کا پروگرام بنا ہے۔ ایک منصوبے میں دو محکموں کو انوالو کرنا اور حقیقی معنوں میں اس کام کے ذمہ کار محکمہ کو منصوبے میں شامل نہ کرنا نیز ناکافی فنڈز کا جاری کیا جانا شہریوں کے لیے تشویش اور حیرت کا باعث ہیں۔
Monday, October 29, 2012
Wednesday, October 17, 2012
خوشاب: ملک احمد چن دارِ فانی سے کوچ کر گئے
خوشاب: علاقہ کی مشہور سماجی شخصیت ملک احمد چن کا گذشتہ روز کئی ماہ کی علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ منگل کے روز ریلوے گراؤنڈ میں ادا کی جانے والی ان کی نمازِ جنازہ میں ممبران اسمبلی کے علاوہ ضلع بھر سے سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ان کے بھائی ملک عبدالشکور، بیٹوں ملک فرحان احمد، ملک عدنان احمد، داماد ملک اقبال ٹونی اور بھانجوں ملک سعید، ملک شاہ خالد اور ملک شاہ فیصل سے تعزیت کی۔ ادارہ وائس آف خوشاب ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا گو ہے۔
Saturday, October 6, 2012
خوشاب مقامی سیاست کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔۔۔۔ تجزیہ: ظہیر باقر بلوچ
ڈی سی گروپ اور عوامی گروپ کے اتحاد کی کوششیں
ٹوانہ برادران مسلم لیگ ن میں واپس چلے جائیں گے؟
ملک شاکر بشیر، آصف بھا اور حاجی شریف خان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
سینیئر مسلم لیگی رہنما، سابق صوبائی وزیر اور ضلعی سیاست کے ایک بڑے گروپ عوامی گروپ کے سربراہ ملک خدا بخش ٹوانہ نے حسن پور ٹوانہ (ہموکہ) میں ملنے کے لیے آئے ہوئے مہمانوں کے سامنے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر میان نواز شریف دوستوں کو آواز دیں تو وہ اب بھی مسلم لیگ ن میں جانے کے لیے تیار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے روز عید ملنے کے لیے آنے والے دوستوں کی موجودگی میں ایک سینئر صحافی کی جانب سے کیے گئے اس سوال کے جواب میں کہ عوامی گروپ نے اپنے گذشتہ تین دہائیوں کے دورِ سیاست میں حتی الوسع مسلم لیگ ہی کا ساتھ دیا ہے اور اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن کی تیاری مسلم لیگ سے وفاداری کے منافی نہیں ہے۔ اور یہ کہ کیا آپ مسلم لیگ ن میں واپس جا سکتے ہیں۔ ملک خدا بخش ٹوانہ نے ملے جلے انداز میں پہلے یہ کہا کہ میاں نواز شریف سیاست سے ریٹائر ہو چکے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ وہ میاں صاحب کے قریبی دوستوں میں شامل ہیں اور اگر میاں صاحب نے دوستوں کو آواز دی تو وہ ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ان کے چھوٹے بھائی اور سابق ضلع ناظم ملک احسان اللہ ٹوانہ ان کے کہنے پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ ضلعی سیاسی شطرنج کے سینئر ترین کھلاڑی کی جانب سے اس طرح کا بیان آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک خدا بخش نے ابھی تک مسلم لیگ ن کے لیے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہوئی ہے اور ضروری نہیں کھڑکی ہو یہ دروازہ یا بڑا گیٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو تحریک انصاف میں شامل کر کے مسلم لیگ ن کو چیلنج دیا ہو کہ ان کی نہ مانے جانے کی صورت میں وہ حاجی شریف خان بلوچ گروپ سے مل کر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے کر مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈروں کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے ملک خدا بخش ٹوانہ کی طرف سے ضلع کی چھ کی چھ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جو لیگی قیادت نے منظور نہیں کیا اور تین سیٹوں یعنی ایک قومی اور دو صوبائی سیٹوں پر اکتفا کرنے کو کہا گیا ہےاور این انہتر اور پی پی انتالیس اور چالیس سمیرا ملک گروپ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عوامی گروپ (ٹوانہ گروپ) کے مرکزی مشیروں میں اکثریت یہ چاہتی ہے کہ یہ منصوبہ مان کر سمیرا بی بی کے ساتھ اتحاد کر لینا چاہیے۔ بنا برین ٹوانہ گروپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ آخری وقت تک اپنے مطالبے پر ڈٹے رہیں اور جب مزید بہتری کی کوئی گنجائش نہ نکلے تو اسی صورت حال پر اکتفا کر کے تین نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کھڑے کر دیے جائیں۔ اور بقیہ حلقوں میں سمیرا گروپ کی مکمل حمایت کی جائے۔ اس بات کے امکانات نظر آ رہے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں ملک خدا بخش ٹوانہ خود ایک نشست سے جو پی پی چالیس بھی ہو سکتی ہے اور بیالیس بھی، صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے۔ اس الیکشن پر اٹھائے گئے جوکھم کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر یہ الیکشن لڑا جائے۔ کیونکہ پی ٹی آئی موجودہ متوقع امیدواروں کے تناظر میں اگر خوشاب سے جیت بھی جائے تو پنجاب میں اس کے حکومت بنانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
دوسری طرف ملک خدا بخش ٹوانہ کے بقول ان کی مرضی سے تحریک انصاف میں جانے والے ملک احسان اللہ ٹوانہ نے اپنے کئی بیانات میں واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک انصاف سے وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ وہ عوامی گروپ کے بڑوں کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ تحریک انصاف میں شامل نہ بھی ہوئے تو ملک احسان اللہ ٹوانہ پھر بھی تحریک انصاف کو نہیں چھوڑیں گے۔ اگر انہیں ٹکٹ دیا گیا تو وہ الیکشن لڑیں گے اور اگر نہ دیا گیا تو تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کی حمایت کریں گے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عوامی گروپ کا "ڈی سی گروپ" سے اتحاد ہو جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں شاکر بشیر اعوان اور ملک آصف بھا موجودہ ممبران اسمبلی کا بنے گا ساتھ ہی حاجی شریف خان بلوچ سابق چیئرمین بلدیہ کا کیا بنے گا جو مسلم لیگ سے اپنی زندگی بھر کی وابستگی کو ٹوانہ گروپ کے کہنے پر بلا وجہ ترک کر کے ٹوانوں کے امیدوار کے طور پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سامنے آ چکے ہیں۔ کیا وہ بھی تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے اور ٹوانہ برادران انہیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لے کر دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ نیز تحریک انصاف سے یہ علیحدگی کن بنیادوں پر عمل میں آئے گی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

